جادو سحر

جادو سحر

جادو کی قسمیں:

جادو کی آٹھ قسمیں امام رازی ؒ نے بیان کی ہیں۔

1۔ ایک جادو تو ستارہ پرست فرقہ کا ہے۔ وہ سات ستاروں کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بھلائی برائی انہی کے باعث ہوتی ہے، اس لیے ان کی طرف منسوب کرکے مقررہ الفاظ پڑھتے ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں، اسی قوم میں حضرت ابراہیمؑ آئے اور انہیں ہدایت کی۔

2۔دوسرا جادو قوی نفس اور قوت و اہمہ والے لوگوں کا ہے۔ وہم اور خیال کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ دیکھئے اگر ایک تنگ پل زمین پر رکھ دیا جائے تو اس پر انسان بہ آسانی چلا جائے گا۔ لیکن یہی تنگ پل اگر کسی کے اوپر ہو تو نہیں گزر سکے گا۔ اس لیے کہ اس وقت خیال ہوتا ہے کہ اب گرا تو واہمہ کی کمزوری کے باعث جتنی جگہ پر زمین میں چل پھر سکتا تھا۔ اتنی جگہ پر ایسے ڈر کے وقت نہیں چل سکتا۔ حکیموں، طبیبوں نے بھی مرعوب شخص کو سرخ چیزوں کے دیکھنے سے روک دیا ہے اور مرگی والوں کو زیادہ روشنی والی اور تیز حرکت کرنے والی چیزوں کے دیکھنے سے روک دیا ہے اور مرگی والوں کو زیادہ روشنی والی اور تیز حرکت کرنے والی چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوت واہمہ کا ایک خاص اثر طبیعت پر پڑتا ہے عقلمند لوگوں کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ نظر لگتی ہے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نظر کا لگنا حق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر ہوتی۔ اب اگر نفس قوی ہے تو ظاہری سہاروں اور ظاہری کاموں کی کوئی ضرورت نہیں، اور اگر اتنا قوی نہیں تو پھر ان آلات کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ جس قدر نفس کی قوت بڑھتی جائے گی وہ روحانیات میں ترقی کرتا جائے گا اور تاثیر میں بڑھتا جائے گا اور جس قدر یہ قوت کم ہوتی جائے گی، اسی قدر یہ گھٹتا جائے گا۔ یہ بات کبھی غذا کی کمی لوگوں کے میل جول کے ترک وغیرہ سے بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ کبھی تو اسے حاصل کرکے انسان نیکی کے کام شریعت کے مطابق اس سے لیتا ہے۔ اس حال کو شریعت کی اصطلاح میں کرامت کہتے ہیں۔ جادو نہیں کہتے۔ اور کبھی اس حال سے باطل میں اور خلاف شرع کاموں میں مدد لیتا ہے اور دین سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے یہ خلاف عادت کاموں سے کسی کو دھوکا کھا کر انہیں ولی نہ سمجھ لینا چاہیے کیونکہ شریعت کے خلاف چلنے والا ولی اللہ نہیں ہوسکتا۔ تم دیکھتے نہیں کہ صحیح حدیثوں میں دجال کی بابت کیا کچھ آیا ہے۔ وہ کیسے کیسے خلاف عادت کام کرکے دکھائے گا۔ لیکن ان کی وجہ سے وہ خدا کا ولی نہیں بلکہ وہ ملعون مردود ہے۔

3۔ تیسری قسم کا جادو جنات وغیرہ زمین والوں کی روحوں سے امداد و اعانت طلب کرنے کا ہے۔معتزلہ اور فلاسفر اس کے قائل نہیں۔ ان روحوں سے بعض مخصوص الفاظ اور اعمال سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔ اسے سحر بلعزائم اور عمل تسخیر بھی کہتے ہیں۔

4۔ چوتھی قسم خیالات کا بدل دینا، آنکھوں پر اندھیرا ڈال دینا اور شعبدہ بازی کرنا ہے، جس سے حقیقت کے خلاف کچھ کا کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ شعبدہ باز پہلے ایک کام شروع کرتا ہے۔ جب لوگ دلچسپی کے ساتھ اس طرف نظریں جما لیتے ہیں اور اس کی باتوں میں متوجہ ہو کر ہمہ تن اس میں مصروف ہو جاتے ہیں، وہ پھرتی سے ایک دوسرا کام کر ڈالتا ہے۔ جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتا ہے اور اسے دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں، بعض مفسرین کا قول ہے کہ فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اس قسم کا تھا۔ اس لیے قرآن کریم میں ہے۔

سَحَرُوْ اَعَیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْ ھُمْ الخ

لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دیا اور ایک جگہ ہے۔

موسی علیہ السلام کے خیال میں وہ سب لکڑیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی نطر آنے لگیں۔ حالانکہ درحقیقت ایسا نہ تھا واللہ اعلم۔

5۔ پانچویں قسم بعض چیزوں کی ترکیب دے کر کوئی عجیب کام اس سے لینا، مثلاً گھوڑا کی شکل بنا دینا اس پر ایک سوار بنا کر بٹھا دیا، اس کے ہاتھ میں ترکش ہے، جہاں ایک ساعت گزری اور اس کرنائے میں سے آواز نکلی۔ حالانکہ کوئی اسے نہیں چھیڑتا، اسی طرح انسانی صورت اس کاریگری سے بنائی کہ گویا اصلی انسان ہنس رہا ہے یا رو رہا، فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اسی قسم میں سے تھا کہ وہ بجائے سانپ وغیرہ زیپق کے باعث زندہ حرکت کرنے والے دکھائی دیتے تھے۔ گھڑی اور گھنٹے اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جن سے بڑی بڑی وزنی چیزیں کھچ آئی ہیں۔ سب اسی قسم میں داخل ہیں، حقیقت میں اسے جادو ہی نہ کہنا چاہیے، کیونکہ یہ تو ایک ترکیت اور کاریگری ہے۔ جس کے اسباب بالکل طاہر ہیں، جو انہیں جانتا ہو وہ ان کلموں سےیہ کام لے سکتا ہے، اسی طرح کا وہ حیلہ بھی ہے کہ جو بیت المقدس کے نصرانی کرتے تھے کہ پوشیدگی سے گرجے کی قندیلیں جلا دیں اور اسے گرجے کی کرامت مشہور کر دی اور لوگوں کو اپنے دین کی طرف جھکا لیا، بعض کرامیہ صوفیوں کا بھی خیال ہے کہ اگر ترغیب و ترہیب کی حدیثیں گھڑ لی جائیں اور لوگوں کو عبادت کی طرف مائل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن بڑی غلطی ہے۔ رسولﷺ فرماتے ہیں، جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنی جگہ جہنم میں مقرر کرلے۔ اور فرمایا میری حدیثیں بیان کرتے رہو، لیکن مجھ پر جھوٹ نہ باندھو، مجھ پر جھوٹ بولنے والا قطعاً جہنمی ہے۔ ایک نصرانی پادری نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک پرندے کا ایک چھوٹا سا بچہ جسے اڑنے اور چلنے پھرنے کی طاقت نہیں ایک گھونسلے میں بیٹھا ہے، جب وہ اپنی ضعیف اور پست آواز نکالتا ہے تو اور پرندے اسے سن کر رحکم کھا کر زیتون کا پھل اس کے گھونسلے میں لا لاکر رکھ جاتے ہیں۔ اس نے اسی صورت کا ایک پرندہ کسی چیز کا بنایا اور نیچے سے اسے کھوکھلا رکھا اور ایک سوراخ اس کی چونچ کی طرف رکھا، اسے لا کر اپنے گرجے میں ہوا کے رخ رکھ دیا، چھت میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیا، تاکہ ہوا اس سے جائے، اب جب ہوا اور اس کی آواز نکلتی تو اس قسم کے پرندے جمع ہو جاتے اور زیتون کے پھل لا لا کر رکھ جاتے، اس نے لوگوں میں شہرت دینی شروع کی کہ اس گرجے میں یہ کرامت ہے، یہاں ایک بزرگ کا مزار ہے اور یہ کرامت انہی کی ہے، لوگوں نے بھی جب یہ انہونی عجیب بات اپنی آنکھوں سے دیکھی تو معتقد ہوگئے اور اس قبر پر نذرو نیاز چڑھنے لگی، اور یہ کرامت دور دراز تک مشہور ہوگئی۔ حالانکہ نہ کوئی کرامت تھی نہ معجزہ، صرف ایک پوشیدہ فن تھا۔ جسے اس ملعون شخص نے پیٹ بھرے کے لیے پوشیدہ طور پر رکھا ہوا تھا اور وہ لعنتی فرقہ اس پر ریجھا ہوا تھا۔

6۔ چھٹی قسم جادو کی بعض دواؤں کے مخفی خواص معلوم کرکے انہیں کام میں لانا، اور یہ طاہر ہےکہ دواوں میں عجیب عجیب خاصیتیں ہیں، مقناطیس ہی کو دیکھو کہ لوہا کس طرح اس کی طرف کھچ جاتا ہے۔ اکثر صوفی اور فقیر اور درویش انہی حیلہ سازیوں کو کرامت کرکے لوگوں کو دکھاتے ہیں اور انہیں مرید بناتے پھرتے ہیں۔

7۔ ساتویں قسم دل پر ایک خاص قسم کا اثر ڈال کر اس سے جو چاہتا منوا لیتا ہے مثلاً اس سے کہہ دیا کہ مجھے اسم اعظم یاد ہے۔ یا جنات میرے قبضے میں ہیں، اب اگر سامنے والاکمزور دل کا اور کچے کانوں کا اور بودے عقیدے والا ہے تو وہ اسے سچ سمجھ لے گا اور اس کی طرف سے ایک قسم کا خوف اور ڈرہیبت اور رعب اسکے دل پر بیٹھ جائے گا، جو اس کو ضعیف بنا دے گا۔ اب اس وقت وہ جو چاہے گا کرے گا اور اس کو کمزور دل اسے عجیب عجیب باتیں دکھاتا جائے گا، اس کو متبدلہ کہتے ہیں اور یہ اکثر کم عقل لوگوں پر ہو جایا کرتا ہے اور علم فراست سے کامل عقل والا اور کم عقل والا انسان معلوم ہو سکتا ہے اور اس حرکت کا کرنے والا اپنا یہ فعل قیافے سے کم عقل شخص معلوم کرکے ہی کرتا ہے۔

8۔ آٹھویں قسم چغلی جھوٹ سچ ملا کر کسی کے دل میں اپنا گھر کر لینا اور خفیہ چالوں سے اسے اپنا گرویدہ کر لینا، یہ چغل خوری اگر لوگوں کو بھڑکانے بدکانے اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی ڈالنے کے لیے ہو تو شرعا حرام ہے۔ جب اصلاح کے طور پر آپس میں ایک دوسرے مسلمان کو ملانے کے لیے کوئی ایسی ظاہر بات کہہ دی جائے، جس سے یہ اس سے اور وہ اس سے خوش ہو جائے یا کوئی آنے والی مصیبت مسلمانوں پر سے ٹل جائے یا کفار کی قوت زائل ہو جائے ان میں بددلی پھیل جائے اور مخالفت و پھوٹ پڑ جائے تو یہ جائز ہے۔

 

ساحرو سحر کے احکام:

شریعت اسلامیہ میں ساحر کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن جرم کے بعد اس پر سزا ہے۔ جو امام کی مرضی پر موقوف ہے جسے ہم تعزیر کہتے ہیں، فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے ایک فرمان میں لکھا تھا کہ ہر ایک جادوگر مرد عورت کو قتل کر دو۔ چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کی گردن مار دی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اُم المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر ان کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا جس پر اسے قتل کر دیاگیا۔ حضرت امام احمد بن جنبل ؒ فرماتے ہیں کہ تین صحابیوں سے جادوگر کےقتل کا فتویٰ ثابت ہے۔ ترمذی میں ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو تلوار سے قتل کر دینا چاہیے۔

جادوگر کا قتل جائز ہے الحماد میں ہے کہ

المسلم والذمی والجرو العبد من اقر منھم انہ ساحر حل دمہ تقتل ولا یقبل توبتہ

جو شخص جادو کا اقرار کرے، خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی، آزاد ہو یا غلام اس کا قتل جائز ہے اور اس کی توبہ مقبول نہیں۔

ایک جگہ اور فتویٰ الحماد میں ہے کہ

یقتل الساحر و الخناق فان تا بالا یقبل توبتھما

ساحر اور گلا گھونٹنے والے کا قتل جائز ہے اور ان کی توبہ قبول نہیں ۔

رہی سحر کی بات تو اس کے متعلق یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں جس کو سحر کہا گیا ہے وہ حرام اور ناجائز ہے۔ جیسا کہ روح المعانی میں ابو منصور ؒ سے روایت ہے کہ مطلقا سحر کی سب اقسام کفر نہیں، بلکہ صرف وہ سحر کفر ہے، جس میں ایمان کے خلاف اقوال و اعمال اختیار کئے گئے ہوں۔

لہٰذا اس کا سیکھنا اور سکھانا حرام ہے۔ اس پر عمل کرنا بھی حرام ہے۔

البتہ اگر مسلمانوں سے دفع ضرر کے لیے بقدر ضرورت سیکھا جائے تو بعض فقہا کے نزدیک اس کی اجازت ہے۔ اسی طرح عامل جو تعویذ گنڈے وغیرہ کرتے ہیں تو اگر ان میں بھی جنات و شیاطین سے مدد لی گئی ہو۔ تو یہ بھی سحر کے حکم میں ہیں اور حرام ہیں اور اگر الفاظ مشتبہ ہوں، معنی معلوم نہ ہوں اور اس میں استمد اد شیطان کا احتمال ہو تو بھی ناجائز ہیں۔ یہ مسئلہ بھی شامی میں ہے اگر کسی کو ناحق ضرر پہنچانے کیلئے جائز کلمات اختیار کیے تو یہ بھی حرام ہے۔

اب ہم جادو کے دفعیہ کے بارے میں بزرگ انسانوں اور بزرگ جنات و موکلین کے بتلائے ہوئے اعمال و و ظائف اور تعویذات پیش کر رہے ہیں۔ جادو کے دفعیہ کے اعمال سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس کائنات میں فعال ذات خدا کی ہے۔ نفع و ضرر، عزت و دولت، خیروشر سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان صرف تدابیر اختیار کرتا ہے اور اثروتاثیر اللہ دیتا ہے۔ جب بھی کوئی عمل کریں، پہلے خدا کی طرف رجوع ہوں، دعا کریں اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا حصار لگائیں، کیونکہ عمل کے دوران بعض اوقات جوابی حملہ اچانک ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جیسے ہی کسی کو یہ علم ہو جائے کہ اس پر جادو ہے یا بندش ہے تو اس کا فورا علاج کروائے۔ ورنہ یہ جادو آدمی کے لیے امراض کی شکل میں اور گھر کیلئے نحوست کا باعث بن جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت کیس آتے ہیں جس میں جادو مرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پھر بہت مشکل سے ہی جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خون میں شامل ہو کر جزوبدن بن جاتا ہے اس لیے ابتدا سے ہی علاج کروا لینا چاہیے۔

حفاظتی اعمال

حفاظت کے اعمال:

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ جب رات شروع ہو جائے تو اپنی اولادوں کو باہر جانے سے روکو۔ کیونکہ شیاطین اس وقت منتشر ہوتے ہیں (پس جب تھوڑی سی رات گزر جائے تو ان کو چھوڑ دو) دروازوں کو بند کر دو اور اللہ کا نام ذکر کرو (یعنی بسم اللہ کہو) کیونکہ شیاطین ایسے بند دروازوں کو نہیں کھولتے اور اپنے مشکوں کا منہ باندھ دو اور اللہ کا نام لو اور اپنے برتنوں کو چھپا دو اور اللہ کا نام لو اگر چہ عرض میں اس پر کوئی چیز رکھ دو اور اپنے چراغوں کو بجھا دو۔

کیونکہ شیاطین مغرب کے وقت اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں اور اسی وقت فرشتے تبدیل ہوتے ہیں۔ یعنی صبح کے فرشتے مغرب کے وقت آسمانوں پر واپس جاتے ہیں اور رات کے فرشتے آتے ہیں۔ تبدیلی کے ان چند لمحات میں شیاطین زیر آسماں بچوں بچیوں اور خصوصاً کھلے ہوئے بالوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثر اتنا زبردست ہوتا ہے اور نظر بداتنی زور دار ہوتی ہے کہ اس کا علاج ممکن نہیں رہتا اور بہت سے لوگ اسی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے رسول اکرمﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم مغرب کے وقت احتیاط رکھیں اور بتائے ہوئے اعمال اختیار کریں۔ تاکہ جان و مال تلف ہونے سے بچیں۔ ان شرور سے بچنے اور بلاؤں سے حفاظت کے لیے یہ دُعا ارشاد فرمائی۔

مال کی حفاظت کے لئے قرآنی دُعا:

حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ انکے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر تھا۔ وہ گھٹتا جاتا تھا۔ ایک رات جو انہوں نے اس ڈھیر کی نگہبانی کی تو ان کو ایک جانور بالغ لڑکے مشابہہ نظر آیا۔ انہوں نے اس کو سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ جنی ہے یا آدمی؟ اس نے کہا میں جن ہوں۔ انہوں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ مجھے دے۔ اس نے اپنا ہاتھ ان کو دیا۔ تو کیا معلوم ہوا کہ ہاتھ کتے کا ہے اور اس کے بال کتے کے بال ہیں۔ انہوں نے کہا جن کی خلقت ایسی ہوتی ہے، اس نے کہا کہ جن اس بات کو جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے زیادہ سخت کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تو کھانے میں سے کچھ حصہ ہم بھی لیں۔ انہوں نے کہا کیا چیز ہم لوگوں کو تم سے نجات دے سکتی ہے۔

اس نے کہا کہ یہ آیت جو سورۃ البقرہ میں ہے۔ جو شخص شام کے وقت اس کو کہہ لے تو صبح تک ہم لوگوں سے محفوظ رہے گا۔ اور جو شخص صبح کو اسے پڑھے تو شام تک ہم لوگوں سے محفوظ رہے گا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے رسول اکرمﷺ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس خبیث نے سچ کہا۔

ہر طرح کے شرور سے بچنے کے لیے ایک مسنون دُعا:

حضور اکرمﷺ ہر رات کو سوتے وقت اور خاص طور سے بیماری کی حالت میں معوذ تین یا بعض روایات کے مطابق معوذات (یعنی قل ھو اللہ اور معوذ تین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے اور سر سے لیکر پاؤں تک پورے جسم پر جہاں، جہاں تک بھی آپ کا ہاتھ پہنچ سکے، پھیرتے تھے۔ آخر بیماری میں جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا، تو حضرت عائشہؓ نے یہ سورتیں پڑھیں اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرتیں۔

جادو کے کارگر ہونے کی علامات

مرد عورت میں نفاق

اول علامت سحر کی یہ ہے کہ میاں بیوی آپس میں محبت و الفت کی زندگی گزار رہے ہیں، یکا یک مردو عورت میں تنازعہ کی شکل کھڑی ہو جائے اور ایک دوسرے کی شکل سے بھی بیزار ہو جائیں۔

 

شوہر کی شکل بری لگے

دوسری علامت یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کی محبت میں فریفتہ ہو اور سحر کرکے اس کو برگشتہ کر دیا جاتا ہے اور وہ شکل دیکھ کر آگ بگولہ ہو جاتی ہے۔

عورت نفرت کرے

تیسری علامت یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے اوصاف بیان کرتے کرتے نہیں تھکتی بلکہ دن رات شوہر کی محبت کا دم بھرتی ہے مگر سفلی سحر کے ذریعہ اس کو بدظن، متنفر کر دیا جائے اور اس کو شوہر کی شکل مثل کتے خنزیر کے نظر آنے لگتی ہے۔

رشتہ سے انکار

چوتھی علامت سحر کی یہ ہے کہ نوجوان حسین و خوبصورت لڑکی ہونے کے باوجود لڑکے والے لڑکی دیکھ کر اچاٹ ہو جاتے ہیں اور رشتہ سے انکار کر دیتے ہیں اس طرح عرصہ دراز گزر جاتا ہے۔

رشتے آنا بند ہونا

پانچویں علامت یہ ہے کہ لڑکیوں کے رشتے آنے بند ہو جاتے ہیں یعنی بغیر دیکھے ہی لوگ بدظن ہو جاتے ہیں اس کے ذکر سے نفرت اور اچاٹ پن دلوں میں ہونے لگتا ہے۔

مرد نفرت کرے

چھٹی علامت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی بچوں پر محبت میں جان دیتا ہے مگر سحر زدہ ہونے کے بعد نفرت و بغض کرنے لگتا ہے اور سمجھانے ولا بھی دشمن لگتا ہے۔

جانوروں کا دودھ سوکھنا

ساتویں علامت یہ ہے کہ یہ بھیڑ بکریاں، گائے اور بھینسوں پر یعنی دودھ دینے والے جانوروں پر کیا جاتا ہے جو ان کے راستہ میں ڈال دیتے ہیں ان جانوروں کا دودھ سوکھ جاتا ہے بچہ مر جاتا ہے دودھ پینے والے بیمار ہو جاتے ہیں۔

چوپایوں پر سحر کرنا

آٹھویں قسم سحر کی یہ ہے جو کہ چوپایوں کے لیے مخصوص ہے اس سحر کے کرنے سے جوپایوں کے جوڑوں میں درد ہو جاتا ہے اور وہ جانور گھاس کھانا چھوڑ دیتے ہیں اگر بروقت علاج نہ ہوتومر بھی جاتے ہیں۔

بچے ضائع ہونا

نویں قسم سحر کی یہ ہے کہ سحر دودھ دینے والے جانوروں اور بچہ جننے والی مائوں پر کیا جاتا ہے خواہ جانور ہوں یا عورتیں اس کےکرنے کے بعد بچہ پیٹ سے بے وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

بچوں کا سوکھنا

دسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ سحر کے ذریعہ خاص کر اولاد کو نشانہ بنایا جاتا ہے یعنی نومولود شیر خوار بچوں پر یہ سحر کیا جاتا ہے اور وہ سوکھ کر مر جاتے ہیں۔

لڑکیاں پیدا ہونا

گیارھویں قسم سحر کی یہ ہے کہ دوپہر میں بروز منگل یا جمعہ کو ایک پتلابنا کرعورت کے راستے میں ڈال دیتے ہیں وہ پتلا جس عورت کے پیروں میں آئے گا اس عورت کےہاں لڑکیاں ہی پیدا ہوں گی لڑکا پیدا نہ ہوگا۔

مباشرت کے قابل نہ رہنا

بارھویں قسم سحر کی یہ ہے کہ مرد کو بستہ کر دیا جاتا ہے یعنی وہ مرد ہمبستری کے قابل نہیں رہتا۔

ہم بستری سے نفرت

تیرھویں قسم سحر کی یہ ہے کہ دلہن کو اپنے شوہر سے یا جس سے وابستہ کیا ہے اس کے ساتھ ہم بستری سے نفرت ہوجاتی ہے۔

مرد بیکار ہونا

چودہویں قسم سحر کی یہ ہے کہ مرد کے مفاصل (جوڑوں ) میں درد پیدا کر دیا جاتا ہے اور مرد بے کار ہو جاتا ہے۔

پیٹ اور سر میں پانی

پندرھویں قسم سحر کی یہ ہے کہ عورت کے پیٹ میں یا سر میں پانی پیدا ہو جاتا ہے۔

شکل و صورت بھیانک ہونا

پندرھیوں قسم سحر کی یہ ہے کہ سحر زدہ ہونے کے بعد عورت رنگ بدلنے لگتی ہے اور تھوڑی دیر کے بعد تبدیلی رونما ہوتی ہے اور شکل و صورت بھیانک ہو جاتی ہے۔

بانجھ پن

سترھویں قسم سحر کی یہ ہے کہ عورت کو باندھ دیا جاتا ہے اور عورت عقیمہ (بانجھ) ہو جاتی ہے ماہواری بھی ہوتی رہتی ہے مگر استفرار حمل نہیں ہوتا ہے۔

مویشی مر جائیں

اٹھارھویں قسم سحر کی یہ ہےکہ اس سحر کے ذریعہ کسی شخص کا روز گار باندھ دیا جاتا ہے اور سحر زدہ کا مال و اسباب تلف ہو جاتا ہے مویشی مر جاتے ہیں اور آئے دن نقصان کا سامنا رہتا ہے۔

ازدواجی رشتے منقطع

انیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ اس قسم کے ذریعہ ازدواجی رشتہ منقطع کر دیا جاتا ہے اور مرد عورت جدا جدا ہو جاتے ہیں۔

گھر ویران

بیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ اس قسم کے ذریعہ کسی گھر کو ویران و برباد کیا جاتا ہے اس گھر کی خیروبرکت اڑ جاتی ہے، محبت و الفت جاتی رہتی ہے، ایک دوسرے کو دشمن سمجھتا ہے رات دن جھگڑا بنا رہتا ہے۔

 

بیماری

اکیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ اس سحر کے ذریعہ سے کسی شخص مرد یا عورت کو شدید بیماری میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور کسی صورت صحت یاب نہیں ہوتا ہے۔

مردوزن میں ناچاقی

بائیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ اس سحر کے ذریعہ کسی بھی شخص کو ذلیل کر دیا جاتا ہے ہر کوئی بلا وجہ ان سے نفرت کرنے لگتا ہے کوئی اعتبار نہیں کرتا۔

عہدہ سے معطل

تئیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ اس سحر کے ذریعہ کسی افسر یا حاکم یا ملازم کو نوکری سے یا افسر کو عہدہ سے ہٹا دیا جاتا ہے سحر زدہ ہونے پر نوکری یا عہدہ سے معطل ہو جاتا ہے۔

فقیر و کنگال

چوبیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ امیر، تجارت، وزیر کو عہدہ سے گرا دیا جاتا ہے اور فقیر و کنگال بنا دیا جاتا ہے۔

عورت کی بربادی

پچیسویں قسم سحر کی یہ ہے کہ عورتوں کو اجاڑ دیا جاتا ہے یعنی طلاق دلا دی جاتی ہے جب تک اس سحر کا دفعیہ نہ ہوگا کتنے ہی نکاح کر لیے جائیں سب منقطع ہوتے رہتے ہیں۔

تبادلہ ہونا 

اس قسم کے سحر میں افسر یا حاکم کا تبادلہ کرا دیا جاتا ہے اورشہر سے دور کر دیا جاتا ہے۔

 

حسن و جمال خراب

اس قسم کے سحر میں خوبصورت حسین و جمیل عورت کے حسن و جمال کو خراب کر دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپے پرایوں میں ذلیل ہو جاتی ہے۔

مکان اجاڑ دینا

اس قسم کے سحر میں ہر ترقی کو مسدود کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ تعمیر شدہ مکان کو اجاڑ دیا جاتا ہے اس گھر میں کوئی آباد نہیں ہو پاتا بلکہ ویران رہتاہے جو بھی مکان میں آتا ہے جلد ہی بھاگ جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

View as Grid List
Sort by
Display per page

Encyclopedia of Islamic Wazaaif

The human beings with their limited knowledge cannot visualize the greatness of the Creator to any extent even after determining the indications and seeing events beyond one‘s imagination. Zenith of the knowledge acquired by the human beings is, that they should be able to recognize the blessings of Almighty, utilize them and thank Him in the real sense. The base of knowledge may expand to any extent and one may continue to acquire as much knowledge as one can do but must realize that he is standing on the ocean. Being Muslim, we believe that there are only too sources of knowledge, first is the Holy Quran and second is the pious life of the Holy Prophet .صلى الله عليه وسلمThe analysts claim that the Holy Quran contains 51000 types of knowledge and every moment of the life of last Prophet of Allah adds a new chapter to these horizons and thus our life. There are numerous types of knowledge. One of them is hidden knowledge known as spiritual knowledge and people of this school of thought are called mystics (Sufis) or Ahl-e-Tasawuf. Besides many other prevalent definitions of Tasawuf, it can be defined as “while living in the specific confines of the religion, consolidating the faith from the core of heart, regularly practicing it; eventually one starts realizing the sweet taste and soothing lights”. Depending on the truthfulness of any religion, the feelings of spiritualism would become pronounced. Thanks to Almighty, Quran is the most authentic and truthful book in the Universe and the life of the Prophet صلى الله عليه وسلمis the best example and beacon of light for the entire humanity. The Muslim who is lost in the oneness of Allah and fully focused in the slavery of the Prophet صلى الله عليه وسلمwould be enlightened with secret of this life and life thereafter.
Rs2,400 Rs1,600