اسلامک وظائف کا انسائکلوپیڈیا اکابرین کی نظر میں



اعلانات

تعارف

انسان اس کائنات کا مرکزی کردار ہے ۔اس کو اللہ رب العزت نے نہ صرف اشرف المخلوقات ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے بلکہ علوم و معارف اور علم وادب کے وہ خزینے عطا فرمائے ہیں جو نہ تو نوریوں کا مقدر بنے اور نہ ہی ناری مخلوق کے حصہ میں آئے ۔یہ شرف اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے بندہ خاکی کو نصیب فرمائے اور اس بندہ خاکی نے ان علوم و معارف پر دسترس حاصل کرکے بڑے بڑے عجائبات دنیا اور کائنات کے سربستہ رازوں سے روشناس کرایا جنکی بدولت انسان نے مادی مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روحانی اور سفلی علوم کی دنیا میں بھی وہ محیر العقول اور ماوراءالعقل خدمات سرانجام دیں ۔ اس کائنات میں دو بڑے نظام کارفرما ہیں ایک مادی یعنی ظاہری نظام اور دوسرا روحانی یعنی مخفی نظام ہے۔جس طرح مادی نظام کے لیے اصول و ضوابط وضع فرمائے ہیں بعینہ روحانی نظام کے لیے بھی اس خالق کائنات نے اصو ل و ضوابط مرصع فرمائے ہیں ۔اس کائنات کا ایک نام عالم اضداد بھی ہے اور یہاں ہر چیز کی ضد پائی جاتی ہے جس چیز کا عمل ہے اس کا رد عمل بھی بہر صورت موجود ہے اس غیر مرئی نظام میں سفلی علوم بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ روحانی اور قرآنی علوم بھی موجود ہیں ۔ دنیا میں سفلی علوم کے ماہر بھی موجود ہیں اور قرآنی اور روحانی علوم کے عاملین بھی ہیں ۔جادو بر حق تو نہیں لیکن بااثر ضرور ہے اور اس کے اثرات ہوجانا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور قرآن مجید فرقان حمید کے اند اس کا علاج بھی موجود ہے بلکہ قرآن کریم بذات خود شفا ہے ۔بیمار لاغر اور پریشان حال بھٹکتی ہوئی ارواح کی شفا کے لیے قرآن مجید نسخہ اکبر بھی اور مجرب بھی ۔جس طرح ہر علم اور ہنر کو سکھنے کے لیے ماہر اساتذہ موزوں ماحول ،قلبی لگاﺅ اور انتھک شبانہ روز محنت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی علوم و معارف کے حصول کے لیے مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ ساتھ تقویٰ طہارت پاکیزگی ،پرہیز گاری ،خلوص و ادب سے متصف ہونا انتہائی ضروری ہے اور بحمدللہ بندہ ناچیز نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ انہی اوصاف حمیدہ سے متصف تھا میرے گھرانے کو آباو اجداد کے زمانہ ہی سے روحانیات سے گہرا شغف تھا ۔ میرے والد صاحب حضرت مولانا غلام ربانی نور اللہ مرقدہ جن کا یہ سب فیضان نظر ہے روحانیات سے بڑی گہری دلچسپی تھی اور علوم و معارف رحانیہ کے حصول کے لیے انہوں نے شہر شہر اور بستی بستی کی خاک چھانی اور بڑی بڑی مقتدر روحانی شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے اور کمال فیض حاصل کیا ۔ہمارا گھرانہ بڑی بڑی ادبی اور روحانی شخصیات کی آمد ورفت کا مرکز رہا ہے اور سلسلہ روحانیت الحمدللہ اب بھی جاری و ساری ہے ۔انہی وجوہات کی بنا ءپر احقر کو شروع ہی سے عملیات سے دلچسپی رہی اور اس حقیر نے ان بزرگوں کی محافل ،مجالس اور ان کے ساتھ مختلف اسفار میں بے حد استفادہ کیا اور انہی عاملین کا فیضان نظر ہے کہ فقیر نے اب تک ملک بھر میں بھی اور بیرون ممالک بھی جادو جنات کے ستائے ہوئے ہزاروں مریضوں کا علاج کرنے کی سعادت حاصل کی اور اللہ پاک نے محض اپنے فضل وکرم اور کابرین کی دعاﺅں اور ان کے نیک اعمال کے صدقے ان مریضوں کو اپنے خاص فضل و کرم اور رحمت واسعہ کے صدقے اس حقیر کے ہاتھ سے شفانامہ نصیب فرمایااور اب بھی سینکڑوں خواتین و حضرات بندہ ناچیز کے زیر علاج ہیں اور الحمد للہ روحانیات سے فیض یاب بھی ہو رہے ہیں اور شفایاب بھی۔علاوہ ازیں ملک بھر میں شفا یاب ہونے والے بیسیوں افراد اب بھی فقیر کے رابطہ میں ہیں اور کسی نہ کسی درجے کا روحانی فیض حاصل کر رہے ہیں ۔ان میں سے بعض حضرات نے عملیات سیکھنے کی تمنا احقر کے سامنے ظاہر کی اور احقر نے اس صدقہ جاریہ کی سعادت بھی حاصل کی ۔بہت سے حضرات اب خانقاہ ربانیہ میں عملیات کی دنیا سے بہرہ ور ہورہے ہیں اور بہت سے حضرات استفادہ کرنے اور عملیات سیکھنے کے بعد ملک بھر میں اپنی خدمات دینے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ممالک بھی مخلوق خدا کے علاج ومعالجہ میں مصروف عمل ہیں اور روحانی سکون کا باعث بن رہے ہیں ۔احقر نے خود بھی کئی بیرونی اسفار اسی مقصد کے تحت کئے ۔خلیجی ممالک ، افریقی ممالک اور بعض ایشائی ممالک کے دورے کر چکا ہے۔بیرون ممالک میں بھی حقیر نے مخلوق خدا کے کامیاب علاج کیے ہیں اور انہیں روحانی سکون بہم پہنچایا۔بہت سے حضرات بیرون ممالک میں بھی فقیر سے رابطہ میں ہیں اور وظائف میں اس ناچیز سے راہنمائی اور استفادہ کر رہے ہیں ۔فقیر کے مرتب کردہ روحانی انسائیکلوپیڈا سے لوگ گھروں میں بیٹھے بے پناپ استفادہ کر رہے ہیں اور تشنگان علوم و معارف اپنی پیاس بجھا رہے ہیں ۔ہزاروں لاکھوں حضرات نہ صرف اس سے مستفید ہو رہے ہیں بلکہ یہ لوگوں کے دینی لگائی اور سکون قلبی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دین پر آنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ احقر کی اس ادنیٰ سی کوشش کو قبول فرماتے ہوئے بارآور فرمائے ، اخلاص نصیب فرمائے اور بندگان خدا کی روحانی و جسمانی شفایابی سکون قلب اور عافیت کا ذریعہ بنائے اور فقیر کے لیے نجات اور مخلوق خدا کی فلاح و بہبود کے لیے مستقبل کے منصوبوں کو اپنی رحمت خاصہ سے عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

نہ فکر استقبال ہے نہ ہی غم ماضی
بس حال میں کرو تم اپنے خدا کو راضی
اس شان سے جو تم نے گزاری عمر فانی
تو سمجھو عزیز جیت لی پھر زندگی کی بازی