اسلامک وظائف کا انسائکلوپیڈیا اکابرین کی نظر میں



اعلانات

جادو سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر

قرآن وسنت کی روشنی میں

یہ بات ہر شخص کومعلوم ہے کہ بندش جماع کاجادو عموماً نوجوانوںپرکیاجاتاہے جب وہ شادی کرنے کاارادہ کررہے ہوںخاص کر ا س وقت جب وہ ایسے معاشرے میں رہائش پذیر ہوںجس میں بدبخت جادوگروںکی کثرت ہوایسے میں ایک سوال پیداہوتاہے کہ کیادولہا اوردلہن جادو سے بچنے کے لیے قلعہ بند نہیں ہوسکتے تاکہ ان پر اگر جادو کیاجائے تووہ ا س کے اثر سے محفوظ رہیں۔

زہر اورجادو کااثر

مدینہ منور ہ کی عجوہ کھجور کے سات دانے صبح نہار منہ کھا لیں اگر مدینہ منورہ کی عجو ہ کجھور نہ ملے توکسی بھی شہر کی عجوہ کھجور استعمال کرسکتے ہیں۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آتا ہے۔”جوشخص عجوہ کھجور کے سات دانے صبح کے وقت کھالیتاہے۔اسے زہر اورجادو کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔“

باوضو مسلمان پر جادو اثر نہیں کرتا

دوسری احتیاطی تدبیر وضو ہے کیونکہ باوضو مسلمان پر جادو اثر انداز نہیں کرتااوروہ فرشتوںکی حفاظت میں رات گزارتاہے۔ایک فرشتہ ا س کے ساتھ رہتاہے اور وہ جب کروٹ بدلتاہے فرشتہ اس کے حق میںدعا کرتے ہوئے کہتاہے کہ ”اے اللہ ! اپنے اس بندے کومعاف کردے کیونکہ اس نے طہارت کی حالت میں رات گزاری ہے۔“

باجماعت نماز کی پابندی

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی پابندی کی وجہ سے انسان شیطان سے محفوظ ہوجاتاہے اور اس سلسلے میں سستی برتنے کی وجہ سے شیطان اس پر غالب آجاتاہے اور جب وہ غالب آجاتاہے توا س میں داخل بھی ہوسکتاہے اوراس پر جادو بھی کرسکتاہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے۔کسی بستی میں جب تین آدمی موجود ہوںاور وہ باجماعت نماز اد ا نہ کریں توشیطان ان پرغالب آجاتاہے بس تم جماعت کے ساتھ رہو کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کوشکار کرتاہے جوریوڑ سے الگ ہوجاتی ہے۔

قیام لیل کی پابندی

جوشخص جادو کے اثر سے بچنے کے لیے قلعہ بندہوناچاہتاہے اسے قیام لیل ضرور کرناچاہیے کیونکہ اس میں کوتاہی کرکے انسان خود بخود اپنے اوپر شیطان کومسلط کرلیتاہے اور اس کے مسلط ہونے کی صورت میں اس کے لیے جادو کاراستہ ہموا رہوجاتاہے۔ حضر ت ابن مسعو د ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کاذکرکیاگیاجوصبح ہونے تک سویارہتاہے اورقیام لیل کے لیے بیدار نہیں ہوتا۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ا س کے کانوں میں شیطان پیشاب کرجاتاہے۔

ناپاک جگہ شیطان کاگھر

ناپاک جگہ پر شیطان کاگھر اورٹھکانہ ہوتاہے۔ا س لیے ا س میں کسی مسلمان کی موجودگی کوشیطان غنیمت تصورکرتے ہیں۔مجھے خود ایک شیطان جن نے بتایا کہ وہ ایک شخص میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھاجب اس نے بیت الخلاءمیں جاتے ہوئے دخول بیت الخلاءکی دعانہیں پڑھی تھی ایک اورجن نے بتایا تھاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک طاقت ور اسلحہ عطاکیاہے جس کے ذریعے تم ہمارا خاتمہ کرسکتے ہومیں نے کہاوہ کیاہے ؟توا س نے جوابا ً کہا کہ وہ مسنون اذکار ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ بیت الخلاءمیں جاتے ہوئے یہ دعا پڑھاکرتے تھے۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّی± اَعُو±ذُبِکَ مِنَ ال±خُبُثِ وَال±خَبَائِثِ اے اللہ ! میں خبیث جن وںاورجننیوں سے تیری پناہ مانگتاہوں۔

وقت جماع دعا پڑھنا

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی جب اپنی بیوی سے جماع کرے تویہ دعا پڑھے۔ بِس±مِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّب±نَا الشَّی±طٰنَ وَجَنِّبِ الشَّی±طَانَ مَا رَزَق±تَنَا اللہ کے نام کے ساتھ ‘اے اللہ ! ہمیں شیطان سے بچا اورجو چیز توہمیں عطا فرما ئے اسے بھی شیطان سے بچا۔ اگر اس جماع کے بعد ان کوبچہ دیاجاتاہے تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔

جادو و سحر

جادو کی قسمیں

جادو کی آٹھ قسمیں امام رازی ؒنے بیان کی ہیں۔ ۱ ۔ ایک جادو تو ستارہ پرست فرقہ کا ہے۔ وہ سات ستاروں کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بھلائی برائی انہی کے باعث ہوتی ہے، اس لیے ان کی طرف منسوب کر کے مقررہ الفاظ پڑھتے ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں ، اسی قوم میں حضرت ابراہیم آئے اور انہیں ہدایت کی۔ ۲ ۔ دوسرا جادو قوی نفس اور قوت واہمہ والے لوگوں کا ہے۔ وہم اورخیال کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ دیکھئے اگر ایک تنگ پل زمین پر رکھ دیا جائے تو اس پر انسان بہ آسانی چلا جائے گا۔لیکن یہی تنگ پل اگر کسی پر ہو تو نہیں گزر سکے گا۔ اس لیے کہ اس وقت خیال ہوتا ہے کہ اب گرا تو واہمہ کی کمزوری کے باعث جتنی جگہ پر زمین میں چل پھر سکتا تھا۔ اتنی جگہ پر ایسے ڈر کے وقت نہیں چل سکتا۔حکیموں طبیبوں نے بھی مرعو ب شخص کو سرخ چیزوں کے دیکھنے سے رو ک دیا ہے اور مرگی والوں کو زیادہ روشنی والی اورتیز حرکت کرنے والی چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوت واہمہ کا ایک خاص اثر طبیعت پڑتاہے عقلمند لوگوں کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ نظر لگتی ہے۔صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نظر کا لگنا حق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر ہوتی۔ اب اگر نفس قوی ہے تو ظاہری سہاروں اورظاہری کاموں کی کوئی ضرورت نہیں ، اور اگر اتنا قوی نہیں توپھر ان آلات کی بھی ضرور ت پڑتی ہے۔ جس قدر نفس کی قوت بڑھتی جائے گی وہ روحانیات میں ترقی کرتا جائے گا اور تاثیر میںبڑھتا جائے گا اور جس قدر یہ قوت کم ہوتی جائے گی، اسی قدر یہ گھٹتا جائے گا۔ یہ بات کبھی غذا کی کمی لوگوںکے میل جول کے ترک وغیرہ سے بھی حاصل ہو جاتی ہے۔کبھی تو اسے حاصل کر کے انسان نیکی کے کام شریعت کے مطابق اس سے لیتا ہے۔ اس حال کو شریعت کی اصطلاح میں کرامت کہتے ہیں۔جادو نہیں کہتے۔ اور کبھی اس حال سے باطل میں اور خلاف شرع کاموں میں مدد لیتا ہے اور دین سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے یہ خلا ف عادت کاموں سے کسی کو دھوکا کھا کر انہیں ولی نہ سمجھ لینا چاہیے کیونکہ شریعت کے خلاف چلنے والا ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ تم دیکھتے نہیں کہ صحیح حدیثوں میں دجال کی بابت کیا کچھ آیا ہے۔وہ کیسے کیسے خلاف عادت کام کر کے دکھائے گا۔ لیکن ان کی وجہ سے وہ خدا کا ولی نہیں بلکہ وہ ملعون مردود ہے۔ ۳۔ تیسری قسم کا جادو جنات وغیرہ زمین والوں کی روحوں سے امدادو اعانت طلب کرنے کا ہے۔ معتزلہ اور فلاسفر اس کے قائل نہیں۔ ان روحوں سے بعض مخصوص الفاظ اور اعمال سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔ اسے سحر بلعزائم اور عمل تسخیر بھی کہتے ہیں۔ ۴۔ چوتھی قسم خیالات کا بدل دینا ، آنکھوں پر اندھیرا ڈال دینا اور شعبدہ بازی کرنا ہے ، جس سے حقیقت کے خلاف کچھ کاکچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ شعبدہ باز پہلے ایک کام شروع کرتا ہے۔ جب لوگ دلچسپی کے ساتھ اس طرف نظریں جما لیتے ہیں اور اس کی باتوں میںمتوجہ ہو کر ہمہ تن اس میں مصروف ہو جاتے ہیں ، وہ پھرتی سے ایک دوسرا کام کر ڈالتا ہے۔ جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتا ہے اور اسے دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں ، بعض مفسرین کا قول ہے کہ فرعون کے جادو گروں کا جادو بھی اس قسم کا تھا۔ اس لیے قرآن کریم میں ہے۔ سَحَرُو±ااَع±یُنَ النَّاسِ واس±تَر±ھَبُو±ہُم± الخ لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور ان کے دلوں میں ڈر بٹھا دیا اور ایک جگہ ہے۔ موسی علیہ السلام کے خیال میں وہ سب لکڑیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگیں۔حلانکہ در حقیقت ایسا نہ تھا واللہ اعلم۔ ۵ ۔ پانچویں قسم بعض چیزوں کی ترکیب دے کر کوئی عجیب کام اس سے لینا ، مثلا گھوڑی کی شکل بنا دینا اس پر ایک سوار بنا کر بٹھا دیا ، اس کے ہاتھ میں ترہی ہے ،جہاں ایک ساعت گزری اور اس کرنائے میں سے آواز نکلی۔ حالانکہ کوئی اسے نہیں چھیڑتا ، اسی طرح انسانی صورت اس کاریگری سے بنائی کہ گویا اصلی انسان ہنس رہا ہے یا رو رہا فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اسی قسم میں سے تھا کہ وہ بنائے سانپ وغیرہ زیپق کے باعث زندہ حرکت کرنے والے دکھائی دیتے تھے۔ گھڑی اور گھنٹے اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جن سے بڑی بڑی وزنی چیزیں کھچ آتی ہیں۔ سب اسی قسم میں داخل ہیں ، حقیقت میں اسے جادو ہی نہ کہنا چاہیے ،کیونکہ یہ تو ایک ترکیب اور کاریگری ہے۔ جس کے اسباب با لکل ظاہر ہیں ،جو انہیں جانتا ہو وہ ان کلموں سے یہ کام لے سکتا ہے ، اسی طرح کا وہ حیلہ بھی ہے کہ جو بیت المقدس کے نصرانی کرتے تھے کہ پوشیدگی سے گرجے کی قندیلیں جلا دیں اور اسے گرجے کی کرامت مشہور کر دی اور لوگوںکو اپنے دین کی طرف جھکا لیا ، بعض کرامیہ صوفیوں کا بھی خیال ہے کہ اگر ترغیب و ترہیب کی حدیثیں گھڑ لی جائیں اور لوگوں کو عبادت کی طرف مائل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن بڑی غلطی ہے۔رسول ? فرماتے ہیں ، جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنی جگہ جہنم میں مقرر کر لے۔ اور فرمایا میری حدیثیں بیان کرتے رہو ، لیکن مجھ پر جھوٹ نہ باندھو ، مجھ پر جھوٹ بولنے والا قطعا جہنمی ہے۔ ایک نصرانی پادری نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک پرند ے کا ایک چھوٹا سا بچہ جسے اڑنے اور چلنے پھرنے کی طاقت نہیں ایک گھونسلے میں بیٹھا ہے ، جب وہ اپنی ضعیف اور پست آواز نکالتا ہے تو اور پرندے اسے سن کر رحم کھا کر زیتون کا پھل اس کے گھونسلے میں لا لا کر رکھ جاتے ہیں۔ اس نے اسی صورت کا ایک پرندہ کسی چیزکا بنایا اور نیچے سے اسے کھوکھلا رکھا اور ایک سوراخ اس کی چونچ کی طرف رکھا ، اسے لا کر اپنے گرجے میں ہوا کے رخ رکھ دیا ، چھت میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیا ، تاکہ ہوا اس سے جائے ، اب جب ہوا اور اس کی آواز نکلتی تو اس قسم کے پرندے جمع ہو جاتے اور زیتون کے پھل لا لا کر رکھ جاتے ، اس نے لوگوں میں شہرت دینی شروع کی کہ اس گرجے میں یہ کرامت ہے ، یہاں ایک بزرگ کا مزارہے اور یہ کرامت انہی کی ہے ، لوگوں نے بھی جب یہ انہونی عجیب بات اپنی آنکھوں سے دیکھی تو معتقد ہو گئے اور اس قبر پر نذر و نیاز چڑھنے لگی ، اور یہ کرامت دور دراز تک مشہور ہو گئی۔ حالا نکہ نہ کوئی کرامت تھی نہ معجزہ ، صرف ایک پوشیدہ فن تھا۔ جسے اس ملعون شخص نے پیٹ بھرنے کے لیے پوشیدہ طور پر رکھا ہوا تھا اور وہ لعنتی فرقہ اس پر ریجھا ہوا تھا۔ ۶۔ چھٹی قسم جادو کی بعض دواوں کے مخفی خواص معلوم کرکے انہیں کام میں لانا ، اور یہ ظاہر ہے کہ دواوں میں عجیب عجیب خاصیتیں ہیں ، مقناطیس ہی کو دیکھو کہ لوہا کس طرح اس کی طرف کھچ جاتا ہے۔ اکثر صوفی اور فقیر اوردرویش انہی حیلہ سازیوں کو کرامت کر کے لوگوں کو دکھاتے ہیں اور انہیں مرید بناتے پھرتے ہیں۔ ۷ ۔ ساتویںقسم لیتا دل پر ایک خاص قسم کا اثر ڈال کر اس سے جو چاہتا منو الیتا ہے مثلا اس سے کہہ دیا کہ مجھے اسم اعظم یاد ہے۔ یا جنات میرے قبضے میں ہیں ، اب اگر سامنے والا کمزور دل کا اور کچے کانوں کا اور بودے عقیدے والا ہے تو وہ اسے سچ سمجھ لے گا اور اس کی طرف سے ایک قسم کا خوف اور ڈر ہیبت اور رعب اسکے دل پر بیٹھ جائے گا ،جو اس کو ضعیف بنا دے گا۔ اب اس وقت وہ جو چاہے گا کرے گا اور اس کو کمزور دل اسے عجیب عجیب باتیں دکھاتا جائے گا ، اس کو متبدلہ کہتے ہیں اور یہ اکثر کم عقل لوگوں پر ہو جایا کرتا ہے اور علم فراست سے کامل عقل والا اور کم عقل والا انسان معلوم ہو سکتا ہے اور اس حرکت کا کرنے والا اپنا یہ فعل قیافے سے کم عقل شخص معلوم کر کے ہی کرتا ہے۔ ۸۔ آٹھویں قسم چغلی جھوٹ سچ ملا کر کسی کے دل میں اپنا گھر کر لینا اور خفیہ چالوں سے اسے اپنا گرویدہ کر لینا ، یہ چغل خوری اگر لوگوں کو بھڑکانے بدکانے اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی ڈالنے کے لیے ہو تو شرعا حرام ہے۔ جب اصلاح کے طور پر آپس میں ایک دوسرے مسلمان کو ملانے کے لیے کوئی ایسی ظاہر بات کہہ دی جائے ، جس سے یہ اس سے اور وہ اس سے خوش ہو جائے یا کوئی آنے والی مصیبت مسلمانوں پر سے ٹل جائے یا کفار کی قوت زائل ہو جائے ان میں بددلی پھیل جائے اور مخالفت و پھوٹ پڑ جائے تو یہ جائز ہے۔

:ساحر و سحر کے احکام

شریعت اسلامیہ میں ساحر کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن جرم کے بعد اس پر سزاہے۔ جو امام کی مرضی پر موقوف ہے جسے ہم تعزیر کہتے ہیں ،فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے اپنے ایک فرمان میں لکھا تھا کہ ہر ایک جادوگر مرد و عورت کو قتل کر دو۔ چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کی گردن ماردی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ام المو منین حضرت حفصہ ؓپر ان کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا جس پر اسے قتل کیا گیا۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؒفرماتے ہیں کہ تین صحابیوں سے جادوگر کے قتل کا فتویٰ ثابت ہے۔ ترمذی میں ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو تلوار سے قتل کر دینا ہے ،۔ جادوگر کا قتل جائز ہے الحماد میں ہے کہ اَل±م±سلِم ُ وَالَّذِّمّی وَال±حُرُّوَالعَبُ± مَن± اَقَرَّمِنھ±م± اِنَّہ¾ سَاحِرµ فَقَد± حَلَّ دَمُہ¾ وَتُق±تَلُ وَلَا یُق±بَلُ تَو±بَتُہ¾ جو شخص جادو کا اقرار کرے ، خواہ وہ مسلما ن ہو یا ذمی ، آزاد ہو یا غلام اس کا قتل جائز ہے اور اس کی توبہ مقبول نہیں۔ ایک جگہ اور فتویٰ الحماد میں ہے کہ یُق±تَلُ السَّاحِرُوَال±خَنَاقُ فَاِن± تَابَا لَا یُق±بَلُ تَو±بَتُھُمَا ساحر اور گلا گھونٹنے والے کا قتل جائز ہے اور ان کی توبہ قبول نہیں۔ رہی سحر کی بات تو اس کے متعلق یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں جس کو سحر کہا گیا ہے وہ حرام اورناجائز ہے۔ جیسا کہ روح المعانی میں ابو منصور ؒسے روایت ہے کہ مطلقا سحر کی سب اقسام کفر نہیں ، بلکہ صرف وہ سحر کفر ہے ، جس میں ایمان کے خلاف اقوال و اعمال اختیارکئے گئے ہوں۔ لہذااس کا سیکھنا اورسکھانا حرام ہے۔ اس پر عمل کرنا بھی حرام ہے۔ البتہ اگر مسلمانوں سے دفع ضرر کے لیے بقدر ضرورت سیکھا جائے تو بعض فقہا کے نزدیک اس کی اجازت ہے۔ اسی طرح عامل جو تعویذ گنڈے وغیرہ کرتے ہیں تو اگر ان میں بھی جنات و شیاطین سے مدد لی گئی ہو۔ تو یہ بھی سحر کے حکم میں ہیں اور حرام ہیں اور اگر الفاظ مشتبہ ہوں ، معنی معلوم نہ ہوں اور اس میں استمداد شیطان کا احتمال ہو تو بھی ناجائز ہیں۔ یہ مسئلہ بھی شامی میں ہے کہ اگر کسی کو ناحق ضررپہنچانے کیلیے جائز کلمات اختیار کیے تو یہ بھی حرام ہے۔ اب ہم جادو کے دفعیہ کے بارے میں بزرگ انسانوں اور بزرگ جنات و مو کلین کے بتلائے ہوئے اعمال و وظائف اور تعویذات پیش کر رہے ہیں۔ جادو کے دفعیہ کے اعمال سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس کائنات میں فعال ذات خدا کی ہے۔ نفع و ضرر ، عزت و ذلت ، خیر وشر سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان صرف تد ابیر اختیار کرتا ہے اور اثر و تاثیر اللہ دیتا ہے۔ جب بھی کوئی عمل کریں ، پہلے خدا کی طرف رجوع ہوں ، دعا کریں اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا حصار لگائیں ، کیونکہ عمل کے دوران بعض اوقات جوابی حملہ اچانک ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جیسے ہی کسی کو یہ علم ہو جائے کہ اس پر جادو ہے یا بندش ہے تو اس کا فورا علاج کروائے۔ ورنہ یہ جادو آدمی کے لیے امراض کی شکل میں اور گھر کیلیے نحوست کا باعث بن جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت کیس ا?تے ہیں جس میں جادو مرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پھر بہت مشکل سے ہی جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خون میں شامل ہو کر جزو بدن بن جاتا ہے۔ اس لیے ابتدا سے ہی علاج کروا لینا چاہیے۔